YOU ARE MY CUP OF TEA
شہرِ بنگلور کا مشہور فِنکس مال دیکھنے کا موقع ملا، دیگر مال کی طرح یہ بھی بہت خوبصورت ہے، آخری فلور پر گھومتے ہوئے میری نظر ایک دلکش اور دلچسپ چیز پر پڑی جو دیوار پر مخصوص انداز اور منفرد زاوئیے میں چسپاں تھی ،اس پر ایک خوبصورت جملہ ٹانگا گیا تھا جس نے میری نظروں کو تھوڑی دیر کے لئے جکڑ لیا، ممکن ہے وہ جملہ آپ کے لئے عام سا جملہ لگے مگر میرے ہاتھوں میں اُس وقت ننھی پری دخترِمن صفا نادر تھی، اس طرح اچانک میرے جذبات کے سمندر میں محبت و شفقت کا تلاطم خیز طوفان امنڈ آنا ضروری تھا، لکھا ہوا تھا :
You are my cup of tea.
تم میرے لئے وہ چیز ہو جسے میں بے پناہ پسند کرتا ہوں.
یہی جملہ اس مضمون کا عنوان بھی ہے اس جملہ کا سادہ اور سیدھا ترجمہ: تم میری چاۓ کی پیالی ہو.
انگریزی میں کسی بات کو قبول کرنے یا کسی چیز کو پسند کرنے کے لیے its my Cup of tea
کا استعمال کیا جاتا ہے، اٹھارہویں صدی سے یہ جملہ مثبت انداز سے چلا آرہا تھا.
جیسا کہ ولیم دی مورگن (1917-1837 )کے ناول (Somehow Good) سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے، لیکن دوسری جنگ عظیم کے اوائل سے برطانیہ میں پہلی بار منفی جملہ کے لیے استعمال ہونے لگا، مثلاً کسی کو
"I don't like it"
کہنا ہو تو وہ کہے گا:
it's not my cup of tea.
مطلب یہ مجھے اچھا نہیں لگتا.
پہلی مرتبہ تحریری شکل میں یہ جملۂ منفیہ 1944 میں امریکہ کے ایک اخباری کالم نگار HolBoyle(1911-1974 ) نے لکھا اور آج کل منفی جملہ ہی اکثر بولا، لکھا اور پڑھا جاتا ہے.
چائے کی پیالی کو اٹھارہویں صدی سے انگریزی ادب میں ایک خاص اصطلاحی معنی میں استعمال کیا جارہا ہے، ادب سماج کا آئینہ ہوتا ہے اس آئینے سے چاۓ کیسے چھپ سکتی ہے،چائے دنیا میں پانی کے بعد سب سے زیادہ پیا جانے والا مشروب ہے، اردو ادب و شاعری میں "چاۓ" کو محبوب کا درجہ حاصل ہے، کچھ شعراء نے چائے کو محبت کی نشانی قرار دی ہے.
رومانی شاعر کے جذبات دیکھیے:
نہ وہ آیا نہ بجھی چشم سبک گام میری
چائے کے کپ میں پڑی گھلتی رہی شام میری
تیری محفل میں چھوڑ آۓ
جلتی سگریٹ، ٹھنڈی چاۓ
کبھی کبھی تو فقط چاۓ کی پیالی سے
خزاں کی بوڑھی تھکن کو بہار کرتے ہیں
شوشل میڈیا میں ہونے والی عارضی عشق بازیوں کو شاعر یوں ظاہر کرتا ہے :
آن لائن محبتیں ’’چائے ‘‘ کی طرح ہوتی ہے
ذرا وقت گزرے تو ٹھنڈی ہو جاتی ہیں
میں نے گوگل پر بھی سرچ کر کے دیکھا ہے
نہ وہ ملی نہ اس کے ہاتھ کی چائے
ایک خوبصورت غزل بھی ملاحظہ فرمائیں :
لمس کی آنچ پہ جذبوں نے ابالی چائے
عشق پیتا ہے کڑک چاہتوں والی چائے
کیتلی ہجر کی تھی ،غم کی بنائی چائے
وصل کی پی نہ سکے ایک پیالی چائے
ہم نے مشروب سبھی مضر صحت ترک کئے
ایک چھوڑی نہ گئی ہم سے یہ سالی چائے
میں یہی سوچ رہا تھا کہ اجازت چاہوں
اس نے پھر اپنے ملازم سے منگا لی چائے
عشق بھی رنگ بدل لیتا ہے جان احمد
ٹھنڈی ہو جاۓ تو پڑجاتی ہے کالی چائے
زاہد اعظمی عمری نے اپنی شاعری میں چاۓ کو کتنا اونچا مقام دیا ہے، آپ ہی پڑھ لیں :
چاۓ ہے اک مونس غم اور یارِ زندگی
چاۓ کے پردے میں پنہاں ہے بہارِ زندگی
مدتوں بے چین تھے ،غم گین تھے، بے تاب تھے
چاۓ نے بخشا ہمیں آخر قرارِ زندگی
چاۓ کیا ہے کیا بتاؤں ، خود ہی پی کر دیکھ لے
چاۓ سے دُھلتا ہے اے ہم دم! غبارِ زندگی
چائے پینا سیکھ لو اور ہر گھڑی پیتے رہو
تم کو کرنا ہے اگر کچھ کاروبارِ زندگی
(نشاطِ غم ___زاہد اعظمی عمری صفحہ :164)
قارئین کرام! اب مجھے اجازت دیں میری چاۓ کا وقت ہورہا ہے
Comments
Post a Comment